ابنا: ہیلری کلنٹن نے مذاکرات کاسلسلہ جاری رکھنےکی ذمہ داری ایران پرعائد کرتےہوئے کہاہے کہ امریکہ باہمی تعاون کےلئےتیار ہے لیکن فی الحال نہيں ؛ ہیلری کلنٹن نےکہاکہ ایران کوبقول ان کےاپنےایٹمی پروگرام کےسلسلےمیں عالمی برادری کی تشویش دورکرنی چاہئے ۔امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کے بیانات ایسےعالم میں سامنےآئےہيں کہ وزیرخارجہ علی اکبرصالحی نے پیرکےدن صحافیوں سےگفتگوکرتےہوئےایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان اسستنبول میں ہونےوالےمذاکرات کےنئےسلسلے کےبارےمیں کہاکہ استنبول ٹو مذاکرات ، سنگ میل تھے۔ کیونکہ اس سےقبل ہونےوالی نشستوں میں کلی امور کےبارےمیں بات چیت ہوتی تھی اور اسی پراکتفا ہوجاتی تھی اورکوئی نتیجہ نہيں نکلتاتھا۔
علی اکبرصالحی نے مزید کہاکہ اس سےقبل ہونےوالےمذاکرات میں فریق مقابل یعنی گروپ پانچ جمع ایک موضوع کےحل کی نیت سے مذاکرات نہیں کرتا تھا لیکن اب کامیاب مذاکرات کےانعقاد کےبعد صورت حال تبدیل ہوچکی ہے۔
ماہرین کاخیال ہے کہ یہ تبدیلی جومذاکرات کےاس نئے دور سےپیدا ہوئی ہے کسی حد تک نئی ہے ۔ من جملہ یہ کہ فریق مقابل نے اس حقیقت کوسمجھ لیاہے کہ ایران نےعظیم نتائج حاصل کئےہیں اور دباؤ اور پابندیاں تہران کو اپنےراستے سےنہيں ہٹھاسکتیں۔
علی اکبرصالحی نےکہاکہ رہبرانقلاب اسلامی سات برس پہلےسے اب تک مسلسل تاکید کررہے ہيں کہ ایران مذہبی لحاظ سےبھی ایٹم بم بنانے کی کوشش نہيں کررہا ہے آپ فرماچکےہيں کہ ایٹم بم کےحرام ہونےکےفتوے کی بنیاد فقہی ہے اور مغرب ،استنبول اجلاس میں اس فتوےکومد نظر رکھتےہوئے ہی اس نتیجےپرپہنچا ہے کہ ایران کےساتھ مذاکرات کوآگےبڑھانے کےلئے مشترکہ دائرہ کار تیار کرنا چاہئے۔
اس بنا پر سیاسی حلقوں اور مذاکراتی فریق نے استنبول اجلاس کو مجموعی طور پرکامیاب قراردیاہے اور طےپایا ہے کہ تیئس مئی کوبغداد میں فریقین ایک مثبت اورتعمیری عمل میں داخل ہونےکی غرض سے جامع تعاون کےلئےمذاکرات کریں ۔
مسلمہ امر یہ ہے کہ ایران ایٹمی مسئلےمیں منطقی مذاکرات پرتاکید کرتاہے اور این پی ٹی معاہدہ اس مشترکہ تناظر کی بنیاد ہے۔بنابرايں اس معاہدے میں ملکوں کےحقوق معین ہیں اورمذاکرات کی پیشرفت کےلئے بھی یہ تناظر مناسب ہے ۔ اس بنیاد پر استنبول ٹو اجلاس میں طے پایا کہ ایک روڈ میپ تیار کیاجائےجس کی بنیاد پرایسےقدم بہ قدم پروگرام ترتیب دیئےجائیں جس پر ایران اور گروپ پانچ جمع ایک راضی ہوں۔
اس صورت حال میں مذاکرات کےسلسلےمیں مختلف قسم کی قیاس آرائياں سامنےآنا فطری امر ہے لیکن ہرحال میں دونکتہ واضح ہے ایک یہ کہ یہ مذاکرات مثبت ماحول میں منعقد ہوئے اورسب سےاہم بات یہ کہ عملی طور پرآگےبڑھنےکی زمین ہموار ہوئی ہے جوآئندہ تعاون اورمذاکرات شروع کرنےکےسلسلےميں اہمیت کی حامل ہے۔
اوردوسرا نکتہ یہ ہے کہ ایران نےگروپ پانچ جمع ایک کی جانب سے مشترکہ پہلوؤں کی بنیاد پرمذاکرات کی میزپرواپسی کاخیرمقدم کیاہے۔ اورعملی طور پربھی یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر جامع اور ہمہ گیرتعاون کےلئے تعمیری تجاویز کاخیرمقدم کرتاہے۔ لیکن یہ گمان بھی موجود ہے کہ مغرب کی جانب سےغیرمنطقی مطالبات اور یک طرفہ پالیسیوں کاتسلسل ایک روکاٹ ہوسکتاہے ۔
اس بنا پر استنبول ٹو اجلاس کےبعد کےماحول کو مجموعی طور پر ایران اور گروپ پانچ جمع ایک درمیان استنبول ون اجلاس سےمختلف سمجھناچاہئے لہذا استنبول اجلاس ایک لحاظ سے تعمیروتعاون کی سمت آگےبڑھنےکےلئے سنگ میل سمجھاجارہا ہے لیکن دوسرےنقطہ نظر سے یہ دیکھناپڑےگاکہ فریق مقابل ایران کااعتماد بحال کرنےکےلئے کون سےمثبت قدم اٹھاتاہے۔ .......
/169